کبھی لوٹ آؤ کسی روز کسی شام

Poet: شفق کاظمی By: شفق کاظمی, Karachi

چلو آؤ کسی روز کسی شام
بیٹھ کر گفتگو کرتے ہیں
بکھری کہانی کو
پھر سے سمیٹنے کی کوشش کرتے ہیں

چلو آؤ زندگی کی کتاب کے
کچھ اوراق پلٹ کر دیکھتے ہیں
ان سوالوں کو
ان کے جواب ڈھونڈ کر لانے کی کوشش کرتے ہیں

چلو آؤ کسی روز کسی شام
بیٹھ کر گفتگو کرتے ہیں
ہمیں تم سے تمہیں ہم سے
نفرت کیوں ہوئی تھی
تم ہم سے ہم تم سے
بچھڑے کیوں تھے

چلو لوٹ آؤ
کہ ابھی اس کہانی کے
کچھ قصے ادھورے سے ہیں۔

چلو آؤ کسی روز کسی شام
بیٹھ کر گفتگو کرتے ہیں۔
جاننے کی یہ کوشش کرتے ہیں
کہاں تم ٹھیک تھے
کہاں میں غلط تھی

چلو آؤ کسی روز کسی شام
اپنی کہانی کو پھر سے دہراتے ہیں

چلو آؤ کسی روز کسی شام
بیٹھ کر گفتگو کرتے ہیں
بکھری کہانی کو
پھر سے سمیٹنے کی کوشش کرتے ہیں
 

Rate it:
Views: 1050
10 Jan, 2022
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL