کبھی لوٹ آؤ کسی روز کسی شام
Poet: شفق کاظمی By: شفق کاظمی, Karachiچلو آؤ کسی روز کسی شام
بیٹھ کر گفتگو کرتے ہیں
بکھری کہانی کو
پھر سے سمیٹنے کی کوشش کرتے ہیں
چلو آؤ زندگی کی کتاب کے
کچھ اوراق پلٹ کر دیکھتے ہیں
ان سوالوں کو
ان کے جواب ڈھونڈ کر لانے کی کوشش کرتے ہیں
چلو آؤ کسی روز کسی شام
بیٹھ کر گفتگو کرتے ہیں
ہمیں تم سے تمہیں ہم سے
نفرت کیوں ہوئی تھی
تم ہم سے ہم تم سے
بچھڑے کیوں تھے
چلو لوٹ آؤ
کہ ابھی اس کہانی کے
کچھ قصے ادھورے سے ہیں۔
چلو آؤ کسی روز کسی شام
بیٹھ کر گفتگو کرتے ہیں۔
جاننے کی یہ کوشش کرتے ہیں
کہاں تم ٹھیک تھے
کہاں میں غلط تھی
چلو آؤ کسی روز کسی شام
اپنی کہانی کو پھر سے دہراتے ہیں
چلو آؤ کسی روز کسی شام
بیٹھ کر گفتگو کرتے ہیں
بکھری کہانی کو
پھر سے سمیٹنے کی کوشش کرتے ہیں
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






