کبھی میری پیاس بجھاؤ نا
Poet: Usman Tarar By: Usman Tarar, Hafizabadدہلیز پہ کوئی دیپ جلاؤ نا
کسی شب تو گھر بھی آؤ نا
یہ دل جو تیرے اختیار میں ہے
کبھی آن اسے سمجھاؤ ۔۔۔ نا
میں تو جنم جنم سے تمہارا ہوں
تم اپنی بات بتاؤ ۔۔۔ نا
تم بادل میں تپتا صحرا ہوں
کبھی میری پیاس بجھاؤ نا
کوئی چھیں نہ لے تیرے تعبیریں
یونہی اپنے خواب ستاؤ نا
میری منزل مجھے پکارتی ہے
اے فاصلوں مجھے ڈراؤ نا
ابھی آگے اور جزیرے ہیں
ابھی کشتیوں کو جلاؤ نا
عثمان زندگی سے سمجھوتہ کرلو
اب مسائل کو اور بڑھاؤ نا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






