کبھی کبھی آنسوؤں نے چُھپ کر کیا ہے کیفِ شراب پیدا
Poet: Sagar By: TARIQ BALOCH, HUB CHOWKIکبھی کبھی آنسوؤں نے چُھپ کر کیا ہے کیفِ شراب پیدا
کبھی کبھی شام غم نے بخشی ہے زندگی کو عجیب مستی
آنکھ جب اشکبار ہوتی ہے
لالہ زاروں میں آگ لگتی ہے
چاند تاروں میں آگ لگتی ہے
ماہ پاروں میں آگ لگتی ہے
ہوش کو جام کی ضرورت ہے
عقل کو دام کی ضرورت ہے
وہاں اب تک سُنا ہے سونے والے چونک اُٹھتے ہیں
صدا دیتے ہوئے جن راستوں سے ہم گزر آئے
یہ مَسندیں یہ مقابری جھولیوں کا عروج
یہ ظلمتوں کا اثاثہ تمام بدلے گا
معرفت کے نقیب ہوتے ہیں
زندگی کے خطیب ہوتے ہیں
حادثے شوخ اداؤں کی طرح ملتے ہیں
بُت بھی اب ہم کو خداؤں کی طرح ملتے ہیں
گیت اس عہدِ بے تکلّف میں
بربط و چنگ و نے کو ترسے ہیں
ساغر کہاں مجال کہ آنکھیں ملائیں ہم
رُسوائیاں ہیں گھات میں مدّت گزرگئی
ساقیا تیرے بادہ خانے میں
نام ساغر ہے مَے کو ترسے ہیں
اس منزلِ حیات سے گزرے ہیں اِس طرح
جیسے کوئی غُبار کسی کارواں کے ساتھ
چند غزلوں کے رُوپ میں ساغر
پیش ہے زندگی کا شیرازہ
میکدہ ان کا ٹھکانا، نہ حَرم ہے ڈیرہ
بادہ کش اُڑتی ہواؤں کی طرح ملتے ہیں
ہر ایک صبح یہاں بن کے سوگ ساتھ رہے گی
چنار شاخ پہ بیٹھا پرندہ بھی سہما ہوا ہے
کہ گولیوں کی صدا اب تو دن کی بات رہے گی
جنازے اٹھتے ہیں، مائیں ہیں پتھرائی ہوئی سی
یہ کس کے نام لکھوں کون سی حیات رہے گی؟
جھیلِ ڈل کا پانی بھی اب سوال کرتا ہے
کہ کتنے خواب ڈبوؤ گے کب یہ گھات رہے گی؟
وہ اسکول بند پڑے ہیں، کتابیں جل رہی ہیں
بتاؤ اے مرے رب نسل کب نجات پائے گی؟
کبھی تو تھا یہ چمن امن کا گہوارہ لیکن
اب اس زمیں پہ فقط آہ کا ثبات رہے گا
لہو سے لکھتے ہیں ہم داستاں کشمیر کی
یہ داستاں نہ سہیںپر یہ کائنات رہے گی
مسعودؔ دردِ وطن کو قلم میں ڈھالتا رہے گا
جب تک لہو میں حرارت ہے یہ صدا ساتھ رہے گی
دل کو مبتلائے غم کر کے مسکرا رہا ہے صنم
اکیلے ہی گزارا کر لیا میں نے
سکوں ملتا نہیں مجھ کو اجالے میں
اندھیروں کو ہی پیارا کر لیا میں نے
اگرچہ زیست مشکل تھی یہ تیرے بن
مگر سب کچھ گوارا کر لیا میں نے
یہ دنیا نفع کی عادی تو ہے لیکن
محبت میں خسارا کر لیا میں نے
جھکا کر سر گریبانِ جنوں میں پھر
عجب دلکش نظارا کر لیا میں نے
مقدر کی اندھیری رات میں گویا
خود اپنے کو ستارا کر لیا میں نے






