کبھی یوں بھی آؤ میرے پاس
Poet: AF(Lucky) By: AF(Lucky), K.S.Aکبھی یوں بھی آؤ میرے پاس
کے واپس جاتے جاتے
زندگی کی شام کر دے
کہ کوئی بات ادھوری نا رہے
آنکھیں سب بیان کر دیں
کاموشیوں کی انتہا کر دیں
میرے دل میں دبے ارمان
اپنا اظہار کر دیں
زندگی کی ہر صبح
ہر شام تیرے نام کر دیں
مجھ پر اپنے پیار کی
ُتوں انتہا کر دے
میرے وہم ، میرے گمان
میری سوچوں سے بڑھ کر
ُتوں اپنی محبت کی برسات کر دے
کبھی یوں بھی آؤ میرے پاس
کے واپس جاتے جاتے
زندگی کی شام کر دے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






