کبھی یوں بھی ہو کہ
Poet: saba hassan By: saba hassan, Lahoreکبھی یوں بھی ہو کہ
موسموں کے رنگ سبھی اطراف میں چاروں طرف
منجمد ہو چلیں
یادوں کی بدلیاں سوچوں کی تتلیاں
ملجگی شامیں سبھی
دھندلکی راتیں کبھی
چہچہاتی گنگناتی صبحیں سبھی
کبھی یوں بھی ہو چاہتوں کی مالا کی مہکتی خوشبوئیں
بانہوں میں سمٹی ٹیسیں جدائی کے سینے پر سر دھرے چلتی رہیں
فرقت و الم کے آثار سب پیوست ہوں یوں روح میں
گردش لہو کی یوں تھم چلے
کبھی یوں بھی ہو کہ بہتالہو احساس سا سرد ہونے لگے
جذبے سبھی جستجو کی تگ و دو میں
دھڑکن سے رو ٹھ چلیں
گویا بے رحم حسینہ عشق کے عروج پہ
بھرم وفا کے توڑے دے
کبھی یوں بھی ہو کہ وقت بہے لمحے چلیں
ہم مگر سرد خانے میں پڑے باندھ کے تلازم نوید سحر سے
چھڑا کے باگیں سانسوں کے سرپٹ قہر سے
گزشتہ سے قطرہ قطرہ پگھلتے رہیں
برف ہوتی ساعتیں
لمحوں کی سل پہ ایڑیاں رگڑ رگڑ
صدیوں کا پردہ چاک کرتی رہیں
بچے کچھے حالات میں ہم جیتے رہیں
کبھی یوں بھی ہو کہ
کبھی یوں بھی ہو کہ
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام






