کتاب الفت کے ہر پنے پے تیرا نام لکھوں
Poet: اسد رضا۔۔ By: ASAD, MPK کتاب الفت کے ہر پنے پے تیرا نام لکھوں۔۔۔
آ مکتب عشق مین ترا الگ ہی مقام لکھوں۔
جی چاھتا ھے تجھکو سونپ دوں بقاء ساری۔
یعنی اپنی زندگی تمہارے نام کل تمام لکھوں۔
مجھ کو کافی ھے نسبت بس تیرے نام کی۔۔
در کا سگ تیرے خود کو ادنٰی غلام لکھوں۔
تیرا ہی کہلائوں جہان جائوں جدھر بھی جائوں۔
یعنی تیرے حوالے سے پہچاں اپنی کل تمام لکھوں۔
تیرے بغیر زندگی جینے کی کوئی حسرت نہیں۔
یعنی ما سوا تیرے زندگی جینا کل حرام لکھوں۔
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






