کتنا نادان ھوں میں
Poet: امن وسیم By: امن وسیم, ملتانکتنا نادان ھوں میں دل لگانا چاھتا ھوں
جلتے سورج کو میں ھاتھوں پہ سجانا چاھتا ھوں
کھلے گلاب کو بھی چومنے کی خواھش ھے
اور کانٹوں سے بھی دامن کو بچانا چاھتا ھوں
چھپاۓ چھپ نھیں سکتی محبت جانتا ھوں
میں پھر بھی اسے سب سے چھپانا چاھتا ھوں
ناممکن ھے کہ محبت میں کوئی غم نہ ملے
میں نا ممکن کو اب ممکن بنانا چاھتا ھوں
میرے غصے کو محبت میں بدل سکتا ھو
سنگ ایسے شخص کے جیون بتانا چاھتا ھوں
اس نے پوچھا ھے تجھے مجھ سے پیار کتنا ھے
میں دل کو چیر کے اس کو دکھانا چاھتا ھوں
بڑی ظالم ھے دنیا یہ کبھی ملنے نھیں دے گی
میں پھر بھی اس سے ملنے کا بہانا چاھتا ھوں
میرا محبوب آ رھا ھے آج پہلی بار
میں اس کی راہ میں پلکیں بچھانا چاھتا ھوں
جو زباں دے دے میرے دل کی ھر اک خواھش کو
میں اک ایسی غزل اس کو سنانا چاھتا ھوں
بہت تڑپا ھے دل اس کی جدائی میں امن
بے دھڑک اس کو سینے سے لگانا چاھتا ھوں
تم ہم سے منانے کی بات کیوں کرتے ہو
ہم یونہی پیار کر لیتے ہیں تمھیں
ہمیں تڑپانے کی بات کیوں کرتے ہو
اس بے رخی میں کتنی محبت ہے چھپی
پیار ہے پھر ترسانے کی بات کیوں کرتے ہو
باتیں ساری تم سے وابستہ اچھی لگتی ہیں
کیوں نہیں انھیں دھرانے کی بات کرتے ہو
جتنی چاہت چاہو گے ہم کریں گے تم سے
پھر بینا سے آزمانے کی بات کیوں کرتے ہو
انکھیوں میں تمھیں چھپا کے
پرستان تمھیں لے جا کے
رکھیں گے اپنا بنا کے
سنگ ہونگے نکاح سے
ہم اللہ کو گواہ بنا کے
خوشیاں منا کے
گھر تم سے بسا کے
چاند کی ٹھنڈک میں
مدھم مدھم روشنی میں
ہلکی ہلکی بارش میں
روپہلی دھوپ سنہری میں
ہولے ہولے دل ڈھڑ کتے
دھیرے دھیرے سانس چلتے
چاہت میں ڈوبے ڈوبے
اک دوسرے سے پیار کرتے
آپ کی شہد سی میٹھی باتوں میں کھوئے رہیں گے
بینا آپ کے ہوکے ہم آپ کے ہی ہوئے رہیں گے






