کتنا پیار کرتے تھے ہم
Poet: AF(Lucky) By: AF(Lucky), Saudi Arabiaکہنے کو تو بہت اپنے ہیں
اس زمانے میں
دل بہلانے کے لیے بہت
سپنے ہیں اس زمانے میں
آنکھوں میں آنسو اور لب پے خوشی کے
ترانے ہیں اس زمانے میں
کسی تک جاتی نہیں آواز ہماری
اور کوئی تھک گیا ہیں
سن سن کے قصے ہمارے
ٹھوکر کھانے کے اس زمانے میں
شاید وہ ہمیں
سمجھ ہی نا سکا لکی
جو یوں ہی چھوڑ گیا کہ
کتنا پیار کرتے تھے ہم
ُاسے اس زمانے میں
میں ُاس کے راہ دیکھتی رہی
مگر وہ لوٹا نہیں
نجانے کہا چھپ گیا ہیں
وہ اس زمانے میں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






