کتنی بدل چکی ہے رت ، جذبے بھی وہ نہیں رہے

Poet: By: TARIQ BALOCH, HUB CHOWKI

کتنی بدل چکی ہے رت ، جذبے بھی وہ نہیں رہے
دل پہ ترے فراق کے صدمے بھی وہ نہیں رہے

محفلِ شب میں گفتگو اب کے ہوئی تو یہ کھلا
باتیں بھی وہ نہیں رہیں لہجے بھی وہ نہیں رہے

حلیئے بدل کے رکھ دئیے جیسے شبِ فراق نے
آنکھیں بھی وہ نہیں رہیں ، چہرے بھی وہ نہیں رہے

اس کا مہِ جمال بھی گویا غروب ہو چلا
اپنے وفور شوق کے چرچے بھی وہ نہیں رہے

ہوش و خرد گنوا چکے ، خود سے بھی دور جا چکے
لوگ جو تیرے تھے کبھی اپنے بھی وہ نہیں رہے

یہ بھی ہوا کہ تیرے بعد ، شوق سفر نہیں رہا
جن پہ بچھے ہوئے تھے دل ، رستے بھی وہ نہیں رہے

Rate it:
Views: 429
28 Jan, 2012
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL