کتنی بے چین ہوں اک بار صدا چاہتا ہے
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیامیرے محبوب مجھے دل سے دعا چاہتا ہے
کتنی بے چین ہوں اک بار صدا چاہتا ہے
آج تنہا ہوں اداسی بھرے ویرانے میں
کیسی مجبوری ہے اک بار وفا چاہتا ہے
توڑ رسموں کی، رواجوں کی سبھی دیواریں
دل کی بستی میں مجھے آج بسا چاہتا ہے
مرے افسانے کا اچھا کوئی انجام تو ہو
اپنی خوشبو سے کوئی پھول کھلا چاہتا ہے
سدا اچھا یہ نہیں لگتا مجھے بہتا دریا
اشک پلکوں سے کسی طور گرا چاہتا ہے
زندگی اپنی یہ پھولوں کی کوئی سیج نہیں
کوئی نغمہ تو محبت کا سنا چاہتا ہے
مجھ سے کیوں دور بسایا ہے زمانہ تو نے
دل کی مسجد میں کبھی بیٹھ دعا چاہتا ہے
منتظر ہی رہی اس عمرِرواں میں وشمہ
اس کی زنجیر زمانے میں ہلا چاہتا ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






