کتنی تاریک
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, پاکستانکتنی تاریک ہوں ضیا ہو کر
عشق تیرے میں مبتلا ہو کر
میرے سینے میں دوڑتا ہے لہو
میری سانسوں میں وہ ہوا ہو کر
آج کشمیر ہو رہا ہے لہو
کیوں تو مجبور ہے خدا ہو کر
میرے ہونٹوں پہ جو رہے گا سدا
اب بھی مچلے گا وہ دعا ہو کر
امر کر لوں گی اپنی ہستی کو
وشمہ چاہت میں انتہا ہو کر
.
اپنی ہستی میں وہ فنا ہو کر
"جا رہا ہو کوئی خفا ہو کر"
کتنی رسوائی مول لی ہے یہاں
یادِ جاناں میں اب تباہ ہو کر
اس کی آنکھوں سے گر گئی ہوں یہاں
اپنے دشمن کی بد دعا ہو کر
ایک دن تو ضرور سنبھلے گا
عزم و ہمت میں مبتلا ہو کر
حوصلے سے تو کام لے وشمہ
بن کے ہونٹوں پہ رہ
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






