کتنے خواب امر ہوتے محبت کے افسانے میں

Poet: محسن شاہ By: Mohsin Shah Hashmi , Sharjah

کتنے خواب امر ہوتے ہیں محبت کے افسانے میں
کس نے یہ کردار لکھے ہیں خواب نگر افسانے میں

لہجہ اس کا کوئل جیسا آنکھیں ہرنی جیسی لیکن
ان میں میرا عکس نہیں تھا یہ کیا ہے افسانے میں

ہجر فراق کے رستے تہہ تھے گوہ کہ کچھ دشواری تھی
کس نے کس کو چھوڑ دیا تھا لکھ دینا افسانے میں

مجھ کو امیدیں تھیں اور،ناز تھا اس کے ضبط پہ لیکن
اپنی ذات سے خائف تھا وہ دو دن کے افسانے میں

اتنے جزبے قتل ہوئے اور پھر بھی منزل مقتل ٹھہرا
سب سے آچھا موڑ دیا تھا اس نے اس افسانے میں

اب کے بار جو لکھو تم،بھول نہ جانا دِلِ مُضْطَر کو
میرے درد کا درماں وہ تھا اس سارے افسانے میں

Rate it:
Views: 397
03 Jan, 2016
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL