کتنی راس آئی

Poet: Hafeez ur rehman By: hafeez ur rehman, Peshawar

 کون سا دل ہے محبت جیسے ہے راس آئی
جُدا ہو سب سے تُمہی جُو تمہیں نا راس آئی

ہوئے ہو گوشہ نشیں کیا تمہی اسی جگ میں
ہَوا جہاں کی تمہی کو ہے بس نہ راس آئی

مُنہ کیوں مُوڑ لیا ہر خوشی سے دنیا کی
یہی تو دنیا ہے کب ہر کسی کو راس آئی

کب تک اِسی اِک غم میں ڈوبے رہو گے تم
کیوں؟ اُس سے محبت نہ تم کو راس آئی

گنوا کے دیکھ لیا آپ کو کسی کے لئے
اُداسی اتنی تمہیں اِس قدر ہے راس آئی

اُسے بھی چھوڑ دو جس نے تمہیں ہے چھوڑ دیا
رہے بس سوچتے تم کو وفا نہ راس آئی

کبھی تو جا کے کرو اُس سے بھی پتہ احمر
جفا جُو اُس نے کی اُس کو ہے کتنی راس آئی

Rate it:
Views: 729
04 Jan, 2016
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL