کتنے عجیب روگ میں ہم مبتلا ہوئے
Poet: نوشین فاطمہ عبدالحق By: نوشین فاطمہ عبدالحق, Jeddah,KSAکتنے عجیب روگ میں ہم مبتلا ہوئے
ہر درد لا دوا کی انوکھی دوا ہوئے
پل پل پگھل کے ہم نے ہے پھیلائی روشنی
موم گداختہ ہوئے جلتا دیا ہوئے
گزرے جہاں جہاں سے کیے دور غم سبھی
خوشیاں بکھیرتی ہوئی غمگیں ہوا ہوئے
جو غمزدہ دلوں میں ہنسی بن کے گھر کرے
فطرت کی ہم وہ شوخ و نرالی ادا ہوئے
دکھ درد ہر کسی کے ہمیں اپنے ہی لگیں
نوشی یہ اس جنون میں ہم کیا سے کیا ہوئے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







