کدورتوں میں خود کو ، جکڑ کے نہیں دیکھا
Poet: اخلاق احمد خان By: Akhlaq Ahmed Khan, Karachiکدورتوں میں خود کو ، جکڑ کے نہیں دیکھا
چلے جو جانبِ منزل تو ، مٗڑ کے نہیں دیکھا
عَالمِ سٗخن میں اپنا الگ ہی جہاں ہے
ہم نے کسی کی سوچ سے جٗڑ کے نہیں دیکھا
پَر ہی تولے تھے کہ سہم گئی دنیاں
ابھی تو ہم نے ، اٗڑ کے نہیں دیکھا
کسی کو خوش دیکھ خوش ہی ہوئے ہم
کامیابی پر کسی کو ، سَڑ کے نہیں دیکھا
ہوا کی دٗھن پر جو پَتے رقص کرتے ہیں
انہوں نے ابھی شاخ سے ، جھڑ کے نہیں دیکھا
گردشِ ایام نے صدا کس کو جِلا بخشی
کیا غنچوں نے بہار سے ، بچھڑ کے نہیں دیکھا
دعوی ہے کہ اس میں تبدیلی کا جِن ہے
وہ چراغ جو ہم نے ابتک ، رگڑ کے نہیں دیکھا
جنونِ عشقِ مصطفی ص تھما ہے نہ تھمے گا
کیا تم نے دیوانوں کو ، پکڑ کے نہیں دیکھا
بندوقیں تاننے والے بھی اپنے ہی تو تھے
سو ہم نے پلٹ کر ، اکڑ کے نہیں دیکھا
اخلاق مٹانے سے حق بھلا کب مٹ سکا ہے
کیا باطل نے ہم سے پہلے ، لڑ کے نہیں دیکھا
وہ بہن بھی تو زمانے میں ہے اب نبھاتی ہیں
ماں کی الفت کا کوئی بھی نہیں ہے اب بدل
پر بہن بھی تو محبت میں ہے ایثار نبھاتی ہیں
گھر کے آنگن میں جو پھیلے ہیں یہ الفت کے ضیا
یہ بہن ہی تو ہیں جو گھر میں یہ انوار نبھاتی ہیں
ماں کے جانے کے بعد گھر جو ہے اک اجڑا سا نگر
وہ بہن ہی تو ہیں جو گھر کو ہے گلزار نبھاتی ہیں
دکھ میں بھائی کے جو ہوتی ہیں ہمیشہ ہی شریک
وہ بہن ہی تو ہیں جو الفت میں ہے غمخوار نبھاتی ہیں
ماں کی صورت ہی نظر آتی ہے بہنوں میں ہمیں
جب وہ الفت سے ہمیں پیار سے سرشار نبھاتی ہیں
مظہرؔ ان بہنوں کی عظمت کا قصیدہ کیا لکھیں
یہ تو دنیا میں محبت کا ہی وقار نبھاتی ہیں
زماں میں قدر دے اردو زباں کو تو
زباں سیکھے تو انگریزی بھولے ا پنی
عیاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
تو سیکھ دوسری ضرورت تک ہو ایسے کہ
مہاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
زباں غیر کی ہے کیوں اہمیت بتا مجھ کو
سماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
سنہرے لفظ اس کے خوب بناوٹ بھی
زماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
بھولے کیوں خاکؔ طیبؔ ہم زباں ا پنی
جہاں میں قدر دے اُردو ز باں کو تو






