کر دیا میں نے مکمل خواب کی تعبیر پر
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیاکر دیا میں نے مکمل خواب کی تعبیر پر
گردشِ دوراں نے میرے پیار کی تفسیر پر
بے وفائی جب مقدر بن کے چمکے چار سو
بے اثر ہر لفظ ہوگا عشق کی تحریرپر
جب محبت کی کہانی لب پہ آتی ہے کبھی
دیکھ جا آکر شکستِ عشق کی تصویر پر
یہ اندھیرے قلب کو تسکین دیتے ہیں مرے
اس لئے احسان لوں کیوں بے وجہ تنویر پر
اک طرف شب اک طرف دن کے مناظر دیکھ کر
کیوں جھلکتی ہے شفق آنکھوں سے یہ تدبیر پر
بے وفائی سہہ کہ بھی زندہ ہوں یارو اس لئے
جان سے پیارا ہے مجھ کو فیصلہ تقدیرپر
یہ تخیل مار ڈالے نہ کہیں وشمہ تجھے
ڈال دے تو قفل کوئی پیار کی زنجیرپر
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






