کر رہے ہیں وہ جھوٹے زمانے کی باتیں

Poet: Peerzada By: Peerzada Arshad, harrisburg pa usa

کر رہے ہیں وہ جھوٹے زمانے کی باتیں
نہ کرو خدارہ اب دیکھانے کی باتیں

کہیں ہو نہ جائیں ٹکڑے دل جگر کے
تم بس مت کرو جانے کی باتیں

ابھی تو بات دل صفاف کرنے کی کرو تم
نہ کرو تم دل دکھانے کی باتیں

خیال یار میں دوڑا دیے گھوڑے ہم
اور تم کر رہے پیچھا چھڑانے کی باتیں

کبھی ہونٹوں پے انکلی کبھی آنکھ کے اشارے
نہ کرو والله دل جلانے کی باتیں

چھایہ ہے ابر ایسا ہنستا ہے باغ بھی
ہر کوئی کر رہا ہے تجھے منانے کی باتیں

محبت میں قلزم کئی بار مٹ کے بنا ہوں
بتا دو انہیں نہ کریں مٹانے کی باتیں

Rate it:
Views: 1061
30 Sep, 2010
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL