کر رہے ہیں یہ لال لال ہمیں
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیاکر رہے ہیں یہ لال لال ہمیں
چاند جیسے یہ تیرے گال ہمیں
ٹوٹ جائے گا آئینہ دل کا
آ نہ جائے کہیں زوال ہمیں
ان کی تصویر خواب میں لا کر
یاد جاناں نہ کر نڈھال ہمیں
پیاسی آنکھوں کے رتجگے لے کر
دے دے رنگین ماہ و سال ہمیں
میرے بچوں کی بھوک مٹ جائے
بھیج روٹی پہ تھوڑی دال ہمیں
اور دنیا میں کچھ نہیں حاصل
شعر کہنے میں ہے کمال ہمیں
کیسے رکھا ہے آج بھی وشمہ
تیری آنکھوں نے یرغمال ہمیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






