کراچی
Poet: azharm By: Azhar, Dohaکہتے ہیں ہوا کرتا تھا اک شہر کراچی
سُنتے ہیں کہ نفرت سے بنا زہر کراچی
سنتے ہیں کہ لوگوں میں محبت تھی خیالی
سنتے ہیں کہ اس شہر کی تھی ریت نرالی
سُنتے ہیں کہ اس شہر کی رونق تھی مثالی
کہتے ہیں خدا کا ہے بنا قہر کراچی
کہتے ہیں ہوا کرتا تھا اک شہر کراچی
سُنتے ہیں محبت ہی تھی ظاہر بھی نہاں بھی
سُنتے ہیں کہ سب خوش تھے یہاں بوڑھے جواں بھی
سُنتے ہیں یہی شہر تھا روشن بھی رواں بھی
کہتے ہیں وہی شہر ہے بے مہر کراچی
کہتے ہیں ہوا کرتا تھا اک شہر کراچی
سنتے ہیں جو آتے تھے، وہ توقیربناتے
سُنتے ہیں کماتے تھے وہ تقدیر بناتے
سُنتے ہیں حسیں شہر کی تصویر بناتے
کہتے ہیں بنی خون کی اب نہر کراچی
کہتے ہیں ہوا کرتا تھا اک شہر کراچی
سنتے ہیں کہ گلشن میں کھلا ورد کراچی
سُنتے ہیں کہ سانجھا تھا یہاں درد کراچی
سُنتے ہیں محافظ تھا یہاں فرد کراچی
کہتے ہیں تشدد کی ہے اک لہر کراچی
کہتے ہیں ہوا کرتا تھا اک شہر کراچی
ہر ایک صبح یہاں بن کے سوگ ساتھ رہے گی
چنار شاخ پہ بیٹھا پرندہ بھی سہما ہوا ہے
کہ گولیوں کی صدا اب تو دن کی بات رہے گی
جنازے اٹھتے ہیں، مائیں ہیں پتھرائی ہوئی سی
یہ کس کے نام لکھوں کون سی حیات رہے گی؟
جھیلِ ڈل کا پانی بھی اب سوال کرتا ہے
کہ کتنے خواب ڈبوؤ گے کب یہ گھات رہے گی؟
وہ اسکول بند پڑے ہیں، کتابیں جل رہی ہیں
بتاؤ اے مرے رب نسل کب نجات پائے گی؟
کبھی تو تھا یہ چمن امن کا گہوارہ لیکن
اب اس زمیں پہ فقط آہ کا ثبات رہے گا
لہو سے لکھتے ہیں ہم داستاں کشمیر کی
یہ داستاں نہ سہیںپر یہ کائنات رہے گی
مسعودؔ دردِ وطن کو قلم میں ڈھالتا رہے گا
جب تک لہو میں حرارت ہے یہ صدا ساتھ رہے گی
دل کو مبتلائے غم کر کے مسکرا رہا ہے صنم
اکیلے ہی گزارا کر لیا میں نے
سکوں ملتا نہیں مجھ کو اجالے میں
اندھیروں کو ہی پیارا کر لیا میں نے
اگرچہ زیست مشکل تھی یہ تیرے بن
مگر سب کچھ گوارا کر لیا میں نے
یہ دنیا نفع کی عادی تو ہے لیکن
محبت میں خسارا کر لیا میں نے
جھکا کر سر گریبانِ جنوں میں پھر
عجب دلکش نظارا کر لیا میں نے
مقدر کی اندھیری رات میں گویا
خود اپنے کو ستارا کر لیا میں نے






