کراچی تو کراچی ہے
Poet: rubin biswas By: Rubin Biswas, Karachiکراچی تو کراچی ہے
کچھ ایسا رشتہ ہے اس سے اپنا
خوشبو دھیرے دھیرے پھول کے رنگ
میں جگمگ کرتی ہے
اسکا چہرہ پہلے سے زیادہ روشن ھوتا ہے
تاروں کی چھاوں میں گھر کی چھت سے نطارہ
چاند نکلا ہے رستہ دکھا دیا سب کو جگا دیا
سمندر کے کنارے تمھارے دامن میں ٹھنڈی ھوائیں
سڑکوں پے گلیوں میں بہاروں کی سرسبز چاندنی
دوڑتی ھوئی ھم کو ساھ لیے پھرتی ہے گو گو
شاخوں سے نکلے ھرے بھرے موسم ے بہار کا
پھولوں سے بھرے پھرے قائل ھو گیا اس شہر سے
محبت کا سورج یہاں ڈوبتا نہں ھار گیا مجھ سے تنہا کے
ھر صبح اسکی جھلمل صفحہ پلٹا تو شبنم کی طرح لطف
کلام کھلا ھوا گلاب اگے اے زندگانی
ھر رات اسکی پر نور ھنستے ھوے
چاند ستارے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






