کربِ ذات کا گرہن

Poet: رعنا تبسم پاشا By: Rana Tabassum Pasha(Daur), Dallas, USA

‎وجودِ بے ثبات میں تغیرِ حیات میں
‎میری منتشر کائنات میں
‎از کراں تا کراں
‎زخمِ جگر کے مہکتے گلاب
‎چشمِ تر کے بے انت چناب
‎چند تشنہ کام شکستہ خواب
‎خوش گمانیوں کے لا حاصل سراب
‎صلہ میری بے لوث چاہتوں کا
‎ثمرہ میرے دامن میں
‎صدیوں کی ریاضتوں کا
‎خلش نا یافت قربتوں کی
‎مجھ نیم جاں پہ اِک بارِ گراں ہے
‎ میرا رخشِ تصور تھک چکا ہے
‎ مسافتوں کے غبار میں
‎ہجرتوں کے فشار میں
‎میری پرواز دم توڑ جاتی ہے
‎میرے تخیلات کی تابانیوں پہ
‎سایہ ہے نا رسائیوں کی تاریک زمینوں کا
‎میرا دل کربِ ذات کے گرہن میں ہے
‎نہ مرتا ہے نہ جیتا ہے
‎عالمِ سکرات میں ہے

Rate it:
Views: 944
12 Jan, 2021
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL