کریں یہاں
Poet: Ishraq Jamal Ashar Chishti By: Ishraq Jamal Ashar Chishti, karachiیہ تو کوئی بتائے کہ ہم کیا کریں یہاں
کب تک ہم اسکا راستہ دیکھا کریں یہاں
یادوں کے زخم دل کو جلاتے ہیں روز و شب
کب تک بہا کے آنسو وہ سینکا کریں یہاں
آتے ہیں اسکے اب بھی محبت بھرے خطوط
کب تک ہم انکو پھاڑ کے پھینکا کریں یہاں
اسکے قریب جا کے بھی پایا نہیں اسے
کب تک ہم اس سراب میں بھٹکا کریں یہاں
یا تو گلے لگا لے، یا ٹھکرا کے چھوڑ دے
کب تک یوں بیچ پیار کے لٹکا کریں یہاں
وہ بھیک ہاتھ میں نہیں دیتا کبھی ہمیں
کب تک یوں گر کے بھیک اٹھایا کریں یہاں
اب تو نظر اٹھا کے بھی وہ دیکھتا نہیں
کب تک بناء نقاب کے آیا کریں یہاں
کلیاں کچل کے پھنک دیں، کچلے گلاب بھی
کب تک ہم اس چمن کو بسایا کریں یہاں
پلکیں بھی جل گئیں ہیں یہاں آگ سے اشہر
کب تک ہم آنسوؤں سے بجھایا کریں یہاں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






