کس قدر اجنبی لگتی ہیں وہ آنکھیں اب ریحاں
Poet: rehan By: rehan abbas, lahoreوہ جو اپنا تھا وہی غیر سا لگتا کیوں ہے
اس کی آنکھوں میں کسی اور کا چہرہ کیوں ہے
مجھ سے دیکھی نہیں جاتی تری انجان نظر
بخدا جان کے انجان سا بنتا کیوں ہے
دوغلے نینوں میں کچھ خواب ہمارے بھی تو تھے
غیر کا ہو کے تو ماضی سے مکرتا کیوں ہے
اس محبت نے کسی در کا نہ چھوڑا ہم کو
ریگِ تنہائی ہی مجنوں کا نصیبہ کیوں ہے
کس قدر اجنبی لگتی ہیں وہ آنکھیں اب ریحاں
پیار گر روح ہے تو پھر ایسے بدلتا کیوں ہے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






