کس قدر باتوں میں کمال ہمیں
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیاکس قدر باتوں میں کمال ہمیں
پھر سے ڈالو یہی دھمال ہمیں
اپنی صورت پہ تبصرہ نہ کرو
اپنی سیرت کا ہے خیال ہمیں
مجھ کو معلوم تھا یہ دن ہو گا
تم کرو گے نیا سوال ہمیں
تم بھی دہراؤ یہ میں بھی دہراؤں
سال نو کا یہی کمال ہمیں
جو بھی آنکھوں میں کھو گئے لحمے
یادِ ماضی نہ دیتے حال ہمیں
تیری یادوں کی شام کے سائے
مجھ کو مشکل میں دیتے ڈال ہمیں
ہم کو معلوم کب ہوا وشمہ
کیسے گزرا نیا یہ سال ہمیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






