کس نے کہا یہ ہوئی بھلانے کی بات ہے
Poet: اےبی شہزاد By: اےبی شہزاد, Mailsiکس نے کہا یہ ہوئی بھلانے کی بات ہے
ہوئی تو ناز نخرے اٹھانے کی بات ہے
دریا تو بہہ رہا ہے نہیں ملتا پینے کو
بنجر زمیں کو پانی لگانے کی بات ہے
دشوار راستے ہیں سفر کرنا ہے ابھی
دن رات ہوئی ساتھ نبھانے کی بات ہے
دل توڑ آپ نے دیا میں بے وفا نہیں
جو آپ نے کی دل وہ دکھانے کی بات ہے
وہ لمحے بھولا میں نہیں ہوں یاد آتے ہیں
زلفوں میں پھول ان کے سجانے کی بات ہے
مہنگائی ہے بہت نہیں ہے پاس کچھ ابھی
ہوئی چراغ کی لو بڑھانے کی بات ہے
کیسے رہوں گا یار بنا تیرے میں یہاں
شہزاد اپنی جان بچانے کی بات ہے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






