کسان کی نصیحت
Poet: Muhammad Usman By: Mohammad Usman, Birmingham UK
کسی گاوں میں رہتا تھا اک کسان
قریب المرگ تھا بیچارہ بڑا پریشان
کہتا تھا الله نے مجھے دیے ہیں سات بیٹے
مگر وہ آپس میں ہر وقت ہیں لڑتے
میں ان کی نااتفاقی کا علاج بھلا کیسے کروں
ٹھیک بگڑے ہوئے مزاج بھلا کیسے کروں
آگئی اک دن اس کے ذہن میں یہ ترکیب
کہا سات بیٹوں کو بلا کے اپنے قریب
امتحان مجھے آج تمہارا مقصود ہے
وقت اگرچہ میرے پاس ذرا محدود ہے
تم سب ایک ایک کر کے میرے سامنے آو
اور یہ پتلی سی ٹہنی ذرا توڑ کے دکھاؤ
کام مشکل نہ تھا سب نے فوراً دیا کر
اور ڈالی بوڑھے باپ پر فاتحانہ نظر
میں خوش ہوں کہ تم بڑے شہ زور ہو
مگر میری نظر میں بڑے کم زور ہو
بوڑھے نے سب ٹہنیوں کو ملا کر اکٹھا کیا
اور بیٹوں کے ہاتھ توڑنے کو وہ گٹھا دیا
باری باری سب نے زور اپنا آزمایا
ٹہنیوں کا گٹھا کسی طرح ٹوٹنے میں نہ آیا
سنو میرے بیٹو بات میری غور سے سنو
مرضی کے مالک ہو تم جو چاہے کرو
اگر تم ٹہنیوں کی طرح جدا جدا رہو گے
کسی دشمن کے ہاتھوں سب کٹ مرو گے
تمہارے سامنے اس گٹھے کی بھی مثال ہے
افراد قوم بن جائیں تو اس کا مٹنا محال ہے
بات باپ کی بیٹوں کے دل میں گھر کر گئی
قریب المرگ بوڑھے کی تجربہ کاری وار کر گئی
اب سارے محبت و اتفاق سے رہتے تھے
کوئی بے اتفاق ملتا تو اس سے کہتے تھے
فرد بنے تو تباہی کو آخر پہنچ جاؤ گے
قوم بن کر عظمت جہاں کی پاؤ گے
قوم میری بھی عثمان افراد ہے کیسے انہیں بتاؤں
جو دل پہ انکی دستک دے بات ایسی کہاں سے لاؤں
وہ بہن بھی تو زمانے میں ہے اب نبھاتی ہیں
ماں کی الفت کا کوئی بھی نہیں ہے اب بدل
پر بہن بھی تو محبت میں ہے ایثار نبھاتی ہیں
گھر کے آنگن میں جو پھیلے ہیں یہ الفت کے ضیا
یہ بہن ہی تو ہیں جو گھر میں یہ انوار نبھاتی ہیں
ماں کے جانے کے بعد گھر جو ہے اک اجڑا سا نگر
وہ بہن ہی تو ہیں جو گھر کو ہے گلزار نبھاتی ہیں
دکھ میں بھائی کے جو ہوتی ہیں ہمیشہ ہی شریک
وہ بہن ہی تو ہیں جو الفت میں ہے غمخوار نبھاتی ہیں
ماں کی صورت ہی نظر آتی ہے بہنوں میں ہمیں
جب وہ الفت سے ہمیں پیار سے سرشار نبھاتی ہیں
مظہرؔ ان بہنوں کی عظمت کا قصیدہ کیا لکھیں
یہ تو دنیا میں محبت کا ہی وقار نبھاتی ہیں
زماں میں قدر دے اردو زباں کو تو
زباں سیکھے تو انگریزی بھولے ا پنی
عیاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
تو سیکھ دوسری ضرورت تک ہو ایسے کہ
مہاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
زباں غیر کی ہے کیوں اہمیت بتا مجھ کو
سماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
سنہرے لفظ اس کے خوب بناوٹ بھی
زماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
بھولے کیوں خاکؔ طیبؔ ہم زباں ا پنی
جہاں میں قدر دے اُردو ز باں کو تو






