کسی دل کا مرے حال جب کہا ہو گا
Poet: Wasim Ahmad Moghal By: Wasim Ahmad Moghal, Lahoreکسی نے دل کا مرےحال جب کہا ہو گا
مجھے یقیں ہے کہ سن کے وہ رو دیا ہو گا
لرز رہا ہے جو دل آسماں پہ تاروں کا
کوئی چراغِ محبت کہیں جلا ہو گا
وفور شوق سے آئے ہیں وہ بھی گلشن میں
اور ان کے آنے سے کیا کیا نہ گل کھلا ہو گا
گلاب رکھا ہے ہر نوکِ خار پر دیکھو
دیارِ عشق میں مجنوں پھر آگیا ہو گا
اُٹھائے پھرتے ہیں کیوں لوگ ہاتھ میں پتھر
کسی نے آئینہ اُن کو دِکھا دیا ہو گا
دیارِ غم کے اندھیروں میں روشنی کے لئے
چراغ بن کے مرا دل بھی جل رہا ہو گا
ترے لبوں کی حسیں مسکراہٹوں کے لئے
نجانے کتنے شہیدوں کا خوں بہا ہو گا
ہزار بار بھی دھو لے وہ آستیں اپنی
نشان میرے لہو کا نہ مٹ سکا ہو گا
سبب تو ہو گا کوئی دل کی دھڑکنوں کا وسیم
سنو تو غور سے کوئی پکارتا ہو گا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






