کسی رتیلے محل کی مانند
Poet: Nisar Zulfi By: Nisar Zulfi, Lahoreکوئی موج چلی ہے میرے من کے اندر، سکون سارا بہہ گیا
وہ لوٹ گیا کچھ کہے بنا، میں اس کو تکتا رہ گیا
لکھا نہ ہو جو نصیب میں، کبھی ملتا نہیں چاہے جو کرو
میرے سارے دکھوں کو سن کے، اتنا ہی مجھ سے وہ کہہ گیا
نہ سوچ سکوں نہ چاہ سکوں، میرا اپنے آپ بھی حق نہیں
ہر چوٹ پہ میں مسکراہ اٹھا، ہر درد ہنس کے میں سہہ گیا
میرے ارد گرد ہجوم تھا، سب چھوڑ چلے جب وقت پڑا
میرے ساتھ ساتھ چلا تھا تو، میرے ساتھ ہی تنہا رہ گیا
کسی رتیلے محل کی مانند، زلفی بھی کتنا کم ظرف نکلا
حالات کی پہلی آندھی سے ہی، یکلخت ایسے ڈھہ گیا
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






