کسی رتیلے محل کی مانند
Poet: Khalid Kasi By: Khalid Kasi, Quettaکوئی موج چلی ہے میرے من کے اندر، سکون سارا بہہ گیا
وہ لوٹ گیا کچھ کہے بنا، میں اس کو تکتا رہ گیا
لکھا نہ ہو جو نصیب میں، کبھی ملتا نہیں چاہے جو کرو
میرے سارے دکھوں کو سن کے، اتنا ہی مجھ سے وہ کہہ گیا
نہ سوچ سکوں نہ چاہ سکوں، میرا اپنے آپ بھی حق نہیں
ہر چوٹ پہ میں مسکراہ اٹھا، ہر درد ہنس کے میں سہہ گیا
میرے ارد گرد ہجوم تھا، سب چھوڑ چلے جب وقت پڑا
میرے ساتھ ساتھ چلا تھا تو، میرے ساتھ ہی تنہا رہ گیا
کسی رتیلے محل کی مانند، کاسی بھی کتنا کم ظرف نکلا
حالات کی پہلی آندھی سے ہی، یکلخت ایسے ڈھہ گیا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






