کسی سے نہ ہرگز ڈرا کیجئے
Poet: Faheem Ur Rehman Faheem By: Faheem Ur Rehman, Surjani Town, Karachiمشکلیں درپیش ہیں تو کیا کیجئے
اور کیا کریں گے بس دعا کیجئے
آپ بڑے ہیں تو ظرف بھی بڑا کیجئے
میری غلطیوں کو معاف کر دیا کیجئے
مشکل تو ہے مگر کر سکیں اگر
تو بے وفاؤں سے بھی وفا کیجئے
کبھی بھی کسی سے نہ خفا آپ ہوں
نہ کبھی بھی کسی کو خفا کیجئے
جرم کس کا تھا سزا کسے ملی
چھوڑییے ان باتوں کو دفعہ کیجئے
کوئی غم ہے تو اسکو بھلا دیجئے
جیتے جی یوں نہ مرا کیجئے
لوگ کرتے ہیں کیا نہ جرح کیجئے
آپ کھرے ہیں کام بھی کھرا کیجئے
سچ بات منہ پہ کہا کیجئے
ہرگز نہ کسی سے ڈرا کیجئے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






