کسی محفل میں کوئی جب تمہارا نام لیتا ہے
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, نیو یارککسی محفل میں کوئی جب تمہارا نام لیتا ہے
نجانے کیوں مجھے دھڑکن تھمی محسوس ہوتی ہے
تری بے اعتنائی نے مجھے یہ کیا بنا ڈالا
بدن میں برف سی اب تو جمی محسوس ہوتی ہے
محبت نے تخیل کو میرے سیراب کر ڈالا
خزاں میں زرد پتوں پر نمی محسوس ہوتی ہے
مجھے قوس و قزع کے رنگ پھیکے پھیکے دکھتے ہیں
ہر اک منظر میں تیری ہی کمی محسوس ہوتی ہے
چلی جاتی ہے اٹھ کر محفلوں سے آج کل وشمہ
ہر اک محفل بہت سنسان گلی محسوس ہوتی ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







