کسی نے خواب کے بدلے میں حرمت مانگ لی مجھ سے
Poet: ایمان شہروز By: ایمان شہروز, haroonabadﻋﻘﯿﺪﺕ ﭼﻬﻮﮌ ﺁﺋﯽ ﮨﻮﮞ ﻋﺒﺎﺩﺕ ﭼﮭﻮﮌ ﺁﺋﯽ ﮨﻮﮞ
ﻣﺤﺒﺖ ﻣﯿﮟ ﻭﻓﺎﺅﮞ ﮐﯽ ﺭﻭﺍﯾﺖ ﭼﻬﻮﮌ ﺁﺋﯽ ﮨﻮﮞ
ﮐﺴﯽ ﻧﮯ ﺧﻮﺍﺏ ﮐﮯ ﺑﺪﻟﮯ ﻣﯿﮟ ﺣﺮﻣﺖ ﻣﺎﻧﮓ ﻟﯽ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ
ﻣﯿﮟ ﺯﻧﺪﮦ ﺁﻧﮑﮫ ﻣﯿﮟ ﻣﺮﺗﯽ ﻭﮦ ﺣﺴﺮﺕ ﭼﮭﻮﮌ ﺁﺋﯽ ﮨﻮﮞ
ﯾﮧ ﺍﯾﺴﮯ ﺯﺧﻢ ﺗﻬﮯ ﻣﺠﻬﮑﻮ ﺟﻮ ﺍﭘﻨﯽ ﺟﺎﮞ ﺳﮯ ﭘﯿﺎﺭﮮ ﺗﻬﮯ
ﺳﺪﺍ ﺭﺳﺘﮯ ﺭﮨﯿﮟ ﻧﮧ ﺑﻬﺮﻧﮯ ﮐﯽ ﻧﯿﺖ ﭼﮭﻮﮌ ﺁﺋﯽ ﮨﻮﮞ
ﺧﻮﺩﯼ ﮐﻮ ﺑﯿﭻ ﺩﯾﺘﯽ ﺗﻮ ﻣﺴﺮﺕ ﻣﻞ ﺑﻬﯽ ﺳﮑﺘﯽ ﺗﻬﯽ
ﺍﭨﻬﺎ ﮐﮯ ﺩﺭﺩ ﮐﯽ ﮔﭩﻬﮍﯼ ﻣﯿﮟ ﺭﺍﺣﺖ ﭼﮭﻮﮌ ﺁﺋﯽ ﮨﻮﮞ
ﺧﺪﺍﯾﺎ ﺗﻮ ﺗﻮ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻃﺮﺡ ﻗﯿﻤﺖ ﻧﮧ ﻟﮯ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ
ﺍﭨﻬﺎ ﮐﮯ ﺑﺪﻧﺼﯿﺒﯽ ﮐﻮ ﻣﯿﮟ ﻧﻌﻤﺖ ﭼﮭﻮﮌ ﺁﺋﯽ ﮨﻮﮞ
ﻟﮕﯽ ﺗﻬﯽ ﺁﮒ ﺟﺐ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﺗﻮ ﺩﺍﻣﻦ ﮐﻮ ﺑﭽﺎﺗﯽ ﮐﯿﺎ
ﺑﮩﺖ ﺍﻧﻤﻮﻝ ﺭﺷﺘﻮﮞ ﮐﯽ ﺑﻬﯽ ﻗﺮﺑﺖ ﭼﮭﻮﮌ ﺁﺋﯽ ﮨﻮﮞ
ﺍﭨﻬﺎ ﻻﺋﯽ ﮨﻮﮞ ﺧﻮﺍﺑﻮﮞ ﮐﮯ ﺳﺒﻬﯽ ﭨﮑﮍﮮ ﻣﯿﮟ ﺁﻧﭽﻞ ﻣﯿﮟ
ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﮯ ﺧﻮﻥ ﺳﮯ ﻟﮑﮫ ﮐﺮ ﻋﺒﺎﺭﺕ ﭼﮭﻮﮌ ﺁﺋﯽ ﮨﻮﮞ
ﮐﺒﻬﯽ ﺍﯾﺴﺎ ﺑﻬﯽ ﺗﻬﺎ ﺍﺱ ﺷﺨﺺ ﮐﯽ ﻣﺠﮫ ﮐﻮ ﺿﺮﻭﺭﺕ ﺗﻬﯽ
ﻣﮕﺮ ﺭﻭ ﺭﻭ ﮐﮯ ﻣﻨﺎﻧﮯ ﮐﯽ ﻭﻩ ﻋﺎﺩﺕ ﭼﮭﻮﮌ ﺁﺋﯽ ﮨﻮﮞ
More Sad Poetry
لہو لہو میرا کشمیر خبر نہیں کہ سحر کب تلک یہ رات رہے گی
ہر ایک صبح یہاں بن کے سوگ ساتھ رہے گی
چنار شاخ پہ بیٹھا پرندہ بھی سہما ہوا ہے
کہ گولیوں کی صدا اب تو دن کی بات رہے گی
جنازے اٹھتے ہیں، مائیں ہیں پتھرائی ہوئی سی
یہ کس کے نام لکھوں کون سی حیات رہے گی؟
جھیلِ ڈل کا پانی بھی اب سوال کرتا ہے
کہ کتنے خواب ڈبوؤ گے کب یہ گھات رہے گی؟
وہ اسکول بند پڑے ہیں، کتابیں جل رہی ہیں
بتاؤ اے مرے رب نسل کب نجات پائے گی؟
کبھی تو تھا یہ چمن امن کا گہوارہ لیکن
اب اس زمیں پہ فقط آہ کا ثبات رہے گا
لہو سے لکھتے ہیں ہم داستاں کشمیر کی
یہ داستاں نہ سہیںپر یہ کائنات رہے گی
مسعودؔ دردِ وطن کو قلم میں ڈھالتا رہے گا
جب تک لہو میں حرارت ہے یہ صدا ساتھ رہے گی
ہر ایک صبح یہاں بن کے سوگ ساتھ رہے گی
چنار شاخ پہ بیٹھا پرندہ بھی سہما ہوا ہے
کہ گولیوں کی صدا اب تو دن کی بات رہے گی
جنازے اٹھتے ہیں، مائیں ہیں پتھرائی ہوئی سی
یہ کس کے نام لکھوں کون سی حیات رہے گی؟
جھیلِ ڈل کا پانی بھی اب سوال کرتا ہے
کہ کتنے خواب ڈبوؤ گے کب یہ گھات رہے گی؟
وہ اسکول بند پڑے ہیں، کتابیں جل رہی ہیں
بتاؤ اے مرے رب نسل کب نجات پائے گی؟
کبھی تو تھا یہ چمن امن کا گہوارہ لیکن
اب اس زمیں پہ فقط آہ کا ثبات رہے گا
لہو سے لکھتے ہیں ہم داستاں کشمیر کی
یہ داستاں نہ سہیںپر یہ کائنات رہے گی
مسعودؔ دردِ وطن کو قلم میں ڈھالتا رہے گا
جب تک لہو میں حرارت ہے یہ صدا ساتھ رہے گی
Mohammed Masood
درد دل پھر وہی درد ، وہی زخم ، وہی مرحم
دل کو مبتلائے غم کر کے مسکرا رہا ہے صنم
دل کو مبتلائے غم کر کے مسکرا رہا ہے صنم
Ghulam Mujtaba faroqii
زمانے سے کنارا زمانے سے کنارا کر لیا میں نے
اکیلے ہی گزارا کر لیا میں نے
سکوں ملتا نہیں مجھ کو اجالے میں
اندھیروں کو ہی پیارا کر لیا میں نے
اگرچہ زیست مشکل تھی یہ تیرے بن
مگر سب کچھ گوارا کر لیا میں نے
یہ دنیا نفع کی عادی تو ہے لیکن
محبت میں خسارا کر لیا میں نے
جھکا کر سر گریبانِ جنوں میں پھر
عجب دلکش نظارا کر لیا میں نے
مقدر کی اندھیری رات میں گویا
خود اپنے کو ستارا کر لیا میں نے
اکیلے ہی گزارا کر لیا میں نے
سکوں ملتا نہیں مجھ کو اجالے میں
اندھیروں کو ہی پیارا کر لیا میں نے
اگرچہ زیست مشکل تھی یہ تیرے بن
مگر سب کچھ گوارا کر لیا میں نے
یہ دنیا نفع کی عادی تو ہے لیکن
محبت میں خسارا کر لیا میں نے
جھکا کر سر گریبانِ جنوں میں پھر
عجب دلکش نظارا کر لیا میں نے
مقدر کی اندھیری رات میں گویا
خود اپنے کو ستارا کر لیا میں نے
Kesar Khan






