کسی نے خواب کے بدلے میں حرمت مانگ لی مجھ سے
Poet: ایمان شہروز By: ایمان شہروز, haroonabadﻋﻘﯿﺪﺕ ﭼﻬﻮﮌ ﺁﺋﯽ ﮨﻮﮞ ﻋﺒﺎﺩﺕ ﭼﮭﻮﮌ ﺁﺋﯽ ﮨﻮﮞ
ﻣﺤﺒﺖ ﻣﯿﮟ ﻭﻓﺎﺅﮞ ﮐﯽ ﺭﻭﺍﯾﺖ ﭼﻬﻮﮌ ﺁﺋﯽ ﮨﻮﮞ
ﮐﺴﯽ ﻧﮯ ﺧﻮﺍﺏ ﮐﮯ ﺑﺪﻟﮯ ﻣﯿﮟ ﺣﺮﻣﺖ ﻣﺎﻧﮓ ﻟﯽ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ
ﻣﯿﮟ ﺯﻧﺪﮦ ﺁﻧﮑﮫ ﻣﯿﮟ ﻣﺮﺗﯽ ﻭﮦ ﺣﺴﺮﺕ ﭼﮭﻮﮌ ﺁﺋﯽ ﮨﻮﮞ
ﯾﮧ ﺍﯾﺴﮯ ﺯﺧﻢ ﺗﻬﮯ ﻣﺠﻬﮑﻮ ﺟﻮ ﺍﭘﻨﯽ ﺟﺎﮞ ﺳﮯ ﭘﯿﺎﺭﮮ ﺗﻬﮯ
ﺳﺪﺍ ﺭﺳﺘﮯ ﺭﮨﯿﮟ ﻧﮧ ﺑﻬﺮﻧﮯ ﮐﯽ ﻧﯿﺖ ﭼﮭﻮﮌ ﺁﺋﯽ ﮨﻮﮞ
ﺧﻮﺩﯼ ﮐﻮ ﺑﯿﭻ ﺩﯾﺘﯽ ﺗﻮ ﻣﺴﺮﺕ ﻣﻞ ﺑﻬﯽ ﺳﮑﺘﯽ ﺗﻬﯽ
ﺍﭨﻬﺎ ﮐﮯ ﺩﺭﺩ ﮐﯽ ﮔﭩﻬﮍﯼ ﻣﯿﮟ ﺭﺍﺣﺖ ﭼﮭﻮﮌ ﺁﺋﯽ ﮨﻮﮞ
ﺧﺪﺍﯾﺎ ﺗﻮ ﺗﻮ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻃﺮﺡ ﻗﯿﻤﺖ ﻧﮧ ﻟﮯ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ
ﺍﭨﻬﺎ ﮐﮯ ﺑﺪﻧﺼﯿﺒﯽ ﮐﻮ ﻣﯿﮟ ﻧﻌﻤﺖ ﭼﮭﻮﮌ ﺁﺋﯽ ﮨﻮﮞ
ﻟﮕﯽ ﺗﻬﯽ ﺁﮒ ﺟﺐ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﺗﻮ ﺩﺍﻣﻦ ﮐﻮ ﺑﭽﺎﺗﯽ ﮐﯿﺎ
ﺑﮩﺖ ﺍﻧﻤﻮﻝ ﺭﺷﺘﻮﮞ ﮐﯽ ﺑﻬﯽ ﻗﺮﺑﺖ ﭼﮭﻮﮌ ﺁﺋﯽ ﮨﻮﮞ
ﺍﭨﻬﺎ ﻻﺋﯽ ﮨﻮﮞ ﺧﻮﺍﺑﻮﮞ ﮐﮯ ﺳﺒﻬﯽ ﭨﮑﮍﮮ ﻣﯿﮟ ﺁﻧﭽﻞ ﻣﯿﮟ
ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﮯ ﺧﻮﻥ ﺳﮯ ﻟﮑﮫ ﮐﺮ ﻋﺒﺎﺭﺕ ﭼﮭﻮﮌ ﺁﺋﯽ ﮨﻮﮞ
ﮐﺒﻬﯽ ﺍﯾﺴﺎ ﺑﻬﯽ ﺗﻬﺎ ﺍﺱ ﺷﺨﺺ ﮐﯽ ﻣﺠﮫ ﮐﻮ ﺿﺮﻭﺭﺕ ﺗﻬﯽ
ﻣﮕﺮ ﺭﻭ ﺭﻭ ﮐﮯ ﻣﻨﺎﻧﮯ ﮐﯽ ﻭﻩ ﻋﺎﺩﺕ ﭼﮭﻮﮌ ﺁﺋﯽ ﮨﻮﮞ
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






