کسی کی محبت کا اسیر
Poet: M.Asghar By: M.Asghar, BIRMINGHAMان دنوں کسی کی محبت کا اسیر ہوں میں
وہ میری رانی ہے اس کا وزیر ہوں میں
جو کسی کہ پیار میں جل کے راکھ ہو گیا
ایسا ایک جلا ہوا شریر ہوں میں
مجھے دنیا کی دولت سے بھلا کیا لینا
پیار کی دولت مانگنے والا فقیر ہوں میں
میری خوابوں میں ایک پری جال آ کر کہتی ہے
کہ اس کہ خوابوں کی تعبیر ہوں میں
ابھی صبا آ کر انہیں مسمار کردے گی
سمندر کنارے جو تاج محل کرتا تعمیر ہوں میں
کاش چپکے سے کوئی میرے کان میں کہے
اصغر تو میرا رانجھا تیری ہیر ہوں میں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi








