کسی کے غم کا عالم ہے کہ ہے یہ بے خودی میری
Poet: Sara Afzal By: Sara Afzal, Pakistanتمہارے ہی لئے تو ہے مری جاں شاعری میری
تمہارے نام کب کی ہو چکی ہے زندگی میری
تمہیں میں پیار کرتی ہوں تمہیں کیسے بتاؤں میں
تمہارے دم سے قائم ہے اے ہمدم ہر خوشی میری
تمہیں شوخی بھری باتیں بہت بھاتی ہیں جانوں میں
اثر تم پہ کرے گی ایک دن تو سادگی میری
جدائی میں بہت روتی ،تڑپتی ، آہ بھرتی ہوں
کبھی تو دیکھ لو چپکے سے آ کر بے بسی میری
تمہارے پیار نے چھینا ہے ساجن میرا سب سکھ چین
تمہارے غم میں ہی تو زندگی اب کھو گئی میری
مجھے شام و سحر کی کچھ خبر ہوتی نہیں سارہ
کسی کے غم کا عالم ہے کہ ہے یہ بے خودی میری
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






