کسی کے ٹوٹ جانے کو اک لمحہ کافی

Poet: حرا نور By: hira noor, gojra
Kisi Ke Toot Jane Ko Ik Lamha Kaafi

کسی کے ٹوٹ جانے کو اک لمحہ کافی ہوتا ہے
کہ واپس موڑ دینے سے کوئی زنده نہیں رہتا

اور تمہاری بھول تھی کہ وقت مرہم بن جائے گا
مگر جب رک جائے تو وقت بھی اپنا نہیں رہتا

چلو ہم ماں لیتے ہیں کہ تم نے ٹھیک سوچا تھا
مگر ایسا بھی نہیں ہے کہ زخم کا نشاں نہیں رہتا

تمہارے راستے الگ ہیں جب یہ باور کراتے ہو
تو منزل تک پہنچنے کا کوئی حوصلا نہیں رہتا

میری آنکھوں میں رہتے ہو سب کو دکھائی دیتے ہو
فقط اسی لیے اب دیر تک کوئی رشتہ نہیں رہتا

لو اب خوش ہو تم اور ہماری بھی دعائیں ہیں
مگر کچھ لوگ کہتے ہیں وہ اب ہنستا نہیں رہتا

Rate it:
Views: 821
30 Aug, 2021
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL