کل تلک جو سیکھتا تھا خود رموزِ شاعری
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, نیویارکجس کو اپنا جانتی تھی اس نے تڑپا یا مجھے
ہر کسی نے اپنے اپنے ظرف تک پایا مجھے
اب کسی سے پھر وفاؤں کی امیدیں کیا کرؤں
چھوڑ جاتا ہے مرا جب اپنا ہی سایا مجھے
نفرتوں کی اپنی دنیا سے بغاوت چھوڑ دو
کہہ گیا ہے آج مجھ کو میرا ماں جایا مجھے
کون جانے کب ختم ہوں زندگی کی سازشیں
جس کو اپنا جانتی تھی اس نے تڑپا یا مجھے
کل تلک جو سیکھتا تھا خود رموزِ شاعری
آج میرے در پہ آ کے اس نے سمجھایا مجھے
میرا ہر اک شعر میرے عہد کی آواز ہے
کھو دیا تھا میں نے جس کو اس نے ہے پایا مجھے
رنج و غم کی اس زمیں پر دونوں ہی رسوا ہوئے
را س اب آتا نہیں یہ سحر کا سایا مجھے
سب نے میرے پیار کی تصویر کو گہنا دیا
تیری اس دھرتی پہ مالک کوئی نہ بھایا مجھے
چاہتوں کی وادیوں میں چاہتوں کا زور ہے
چاہتوں کی اس زمیں پہ کون ہے لایا مجھے
چھوڑ آئی منزلوں کو اب میں وشمہ کیا کروں
وہ بھی اب افسردہ ہوگا جس نے ٹھکرایا مجھے
تم ہم سے منانے کی بات کیوں کرتے ہو
ہم یونہی پیار کر لیتے ہیں تمھیں
ہمیں تڑپانے کی بات کیوں کرتے ہو
اس بے رخی میں کتنی محبت ہے چھپی
پیار ہے پھر ترسانے کی بات کیوں کرتے ہو
باتیں ساری تم سے وابستہ اچھی لگتی ہیں
کیوں نہیں انھیں دھرانے کی بات کرتے ہو
جتنی چاہت چاہو گے ہم کریں گے تم سے
پھر بینا سے آزمانے کی بات کیوں کرتے ہو
انکھیوں میں تمھیں چھپا کے
پرستان تمھیں لے جا کے
رکھیں گے اپنا بنا کے
سنگ ہونگے نکاح سے
ہم اللہ کو گواہ بنا کے
خوشیاں منا کے
گھر تم سے بسا کے
چاند کی ٹھنڈک میں
مدھم مدھم روشنی میں
ہلکی ہلکی بارش میں
روپہلی دھوپ سنہری میں
ہولے ہولے دل ڈھڑ کتے
دھیرے دھیرے سانس چلتے
چاہت میں ڈوبے ڈوبے
اک دوسرے سے پیار کرتے
آپ کی شہد سی میٹھی باتوں میں کھوئے رہیں گے
بینا آپ کے ہوکے ہم آپ کے ہی ہوئے رہیں گے






