کل رات کسی کو نفیس دَردِے دِل سناتے سناتے

Poet: majassaf imran By: majassaf imran, Gujarat

کَل رات ہم کسی کو نفیس دَاردِے دِل سناتے سناتے رُو پڑے
گُزری زندگی کیسی اپنی ہم یہ حالات سناتے سناتے رُو پڑے

ابھی چند آنسوں ہی گرے تھے کہ بادلوں نے سَر پہ چَادر تَان لی
تھا اُس کی محبت کا سایہ اس طرح مجھ پر مثال سناتے سناتے روُ پڑے

باتو ہی باتوں میں رُخسار اُس کا میرے ہونٹوں پہ چَھلکنے لگا
رقِیب پُوچھتے رہے کیوں چُپ صَاد لی ہم ہونٹ ہلاتے ہلاتے رُو پڑے

نِیند سے بُوجھل میری آنکھیں چہراے یار دیکھنے کی ضِد کرنے لگی
رکھی سامنےآنکھوں کےمجسف تصویرِیار اور سَر جُھکاتے جُھکاتے روپڑے۔

Rate it:
Views: 369
22 Feb, 2016
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL