کلمہ حق
Poet: Asad By: Asad, mpk مٹا دے کوئی فاصلے اپنے درمیان کے
کہ روشن ھو جائیں ستارے امکان کے
یقین کرے کوئی کہ یہ اپنی خطا نہیں
سب من گھڑت افسانے ھیں دشمن جہان کے
اسکو اک نظر دیکھا تو اچنبھے میں پڑ گئے
سارے طبق روشن ھو گئے اپنے جہان کے
وہ تیرہ احسان ھم بھلائے نہیں بھولے
ہاں! ہاں!! ھم کچے نہیں فھم و گیان کے
چل تھوڑا صبر اور سہی اے دل نادان
تو بھی دیکھ لے گا جلوے اس مرجان کے
کیا تونے عشق کی گھٹی نہیں پی ھنوز؟
جو کرنے لگا ھے دعوے پیار میں گمان کے
اسد!!! ھے آرزو کہ موت آئے اس وقت
کلمہ ء حق جاری ھو جب اپنی زبان کے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






