کلیاں چٹک رہی ہیں گل مسکرا رہے ہیں
Poet: dr.zahid Sheikh By: Dr.Zahid Sheikh, Lahore Pakistanکلیاں چٹک رہی ہیں گل مسکرا رہے ہیں
کہ وہ حسن و ناز والے گلشن میں آ رہے ہیں
پتے بھی جھومتے ہیں سب ڈالیاں ہیں رقصاں
سارے شجر ہی جشن آمد منا رہے ہیں
سر چھیڑنے لگی ہیں بہکی ہوئی ہوائیں
جھولے فضا میں لیتے پنچھی بھی گا رہے ہیں
پھولوں کی خوشبوؤں سے مہکی ہوئی فضا ہے
جھرنے بھی جلترنگ سی دیکھو بجا رہے ہیں
کرنیں ہیں جیسے سونا بکھرا ہو آسماں پہ
سورج کے موتی کیسے جلوے دکھا رہے ہیں
رنگوں کا یہ جہاں تو جنت کا ہی سماں ہے
مخمور یہ نظارے مستی لٹا رہے ہیں
بیتاب ہو رہی ہے اس جھیل کی خموشی
بے چین یہ نظارے ان کو بلا رہے ہیں
خوشبو کا ایک جھونکا لہرا کے کہہ گیا ہے
محبوب آپ کے اب تشریف لا رہے ہیں
کلیاں چٹک رہی ہیں گل مسکرا رہے ہیں
کہ وہ حسن و ناز والے گلشن میں آ رہے ہیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






