کنارے سے گہرائی کا اندازہ نہیں ہوتا
Poet: Usman Tarar By: Usman Tarar, Hafizabadنظر اٹھا ادھر دل کو جلتا ہوا بھی دیکھ
اکیلا ہے یہاں پہ کون اپنے سوا بھی دیکھ
اک وعدے کے نبھا میں جس نے گزاری ہے زندگی
اس کی جفا بھی دیکھ اور اپنی وفا بھی دیکھ
کنارے سے گہرائی کا اندازہ نہیں ہوتا
تو میرے قریب آ اور میری چاہ بھی دیکھ
کہتے ہیں تیرے چہرے پہ ملتے ہیں میرے نقوش
کسی روز تو تنہائی میں تُو آئینہ بھی دیکھ
اک آشیاں جلا ہے سارے گلشن کو چھوڑ کر
آ کر دیار غیر میں یہ سانحہ بھی دیکھ
عثمان خدا سے اپنے نصیب کا شکوہ فضول ہے
اسکی رحمت شمار کر، اور اپنے گناہ بھی دیکھ
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






