کنکر سےمری سمت اچھالے بھی نہیں ہیں
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, پاکستانکنکر سے مری سمت اچھالے بھی نہیں ہیں
اب کام ترے عشق نرالے بھی نہیں ہیں
اس عید پہ نظروں سے کہاں عید ملی ہے
اس عید پہ کمبخت اجالے بھی نہیں ہیں
حیراں بھی نہیں آنکھ میں پھیلا ہوا کاجل
ہونٹوں پہ محبت کے حوالے بھی نہیں ہیں
کیوں دور وہ رہتے ہیں اجالوں کے نگر سے
وہ لوگ جو من کے ابھی کالے بھی نہیں ہیں
ہاتھوں پہ مرے رنگ حنا بھولنے والے
پاوں میں ترے ہجر کے چھالے بھی نہیں ہیں
ملنے کا کہاں عیدپہ امکان ہے وشمہ
جب راستے چاہت کے سنبھالے بھی نہیں ہیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






