کوئی جگنو ، نہ دیا ہے ، نہ ستارہ کوئی
Poet: Azra Naz By: Azra Naz, Reading UKکوئی جگنو ، نہ دیا ہے ، نہ ستارہ کوئی
راہ دکھلائے ، نہیں ایسا سہارا کوئی
چن لیا اس نے کوئی اور مرے جیتے جی
اپنی توہین کرے کیسے گوارا کوئی
ہم سے نادان بھلا کیسے سمجھ سکتے ہیں ؟
رب کی ہر بات میں ہوتا ہے اشارہ کوئی
بہتی جاتی ہے مرے دل کی شکستہ ناؤ
کاش مل جائے کہیں اس کو کنارا کوئی
تھام کر بیٹھ گئے دل کو ترے جانے پر
تھا نہ اب اس کے سوا اور تو چارہ کوئی
زندگی ایسے ہی رنگوں سے بنی ہے شاید
مل گئی جیت کسی کو ، تو ہے ہارا کوئی
پا لیا پیار ترا ، دے کے تجھے جاں اپنی
ایسی باتوں میں بھی ہوتا ہے خسارہ کوئی ؟
میں نے چاہا ہی نہ تھا ایسا، وگرنہ عذراؔ
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






