کوئی آہٹ نہ کوئی شور کر اے بادِ صبا
Poet: hussain nisar By: hussain nisar, karachiتو نہیں ہے تو گریزاں یہ چمن مجھ سے ہے
سخت نادم مری گفتارِ دہن مجھ سے ہے
کوئی آہٹ نہ کوئی شور کر اے بادِ صبا
کوئی خوشبو سا دہن محوِ سخن مجھ سے ہے
میری فرقت سے بکھر جائیں گے سب خواب ترے
تری آنکھوں کی یہ شوخی یہ پھبن مجھ سے ہے
تو بھی خوش مجھ سے بچھڑ کر نہ رہے گی جاناں
جان لے تو بھی تری بزمِ سخن مجھ سے ہے
در بدر خاک اڑاتا ہوں محبت میں نثار
سخت نالاں مری گیتی وطن مجھ سے ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






