کوئی ایسا کمال ہو جائے
Poet: اےبی شہزاد By: اےبی شہزاد, Mailsiکوئی ایسا کمال ہو جائے
دل مرا خوش خصال ہو جائے
ہر گھڑی سوچے وہ مرے بارے
میرا وہ ہم خیال ہو جائے
کال آئی نہیں کبھی ان کی
عین مکمن ہے کال ہو جائے
یاد کرتا ہوں روز میں ان کو
ہجر ٹوٹے وصال ہو جائے
میں کروں پیار کا اسے اظہار
کاش ایسا سوال ہو جائے
رابطہ ہو نہیں رہا کب سے
عین ممکن ہے سال ہو جائے
روز نمبر ملاتا ہوں ان کا
سوچتا ہوں کہ کال ہو جائے
سوچے شہزاد میرے بارے وہ
ہجر غم میں نڈھال ہو جائے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






