کوئی بھی اور قصہ اس زباں سےکم سنا سمجھا
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیامیں جب بولوں لبوں سے بس تمہارا دل کیا سمجھا
کوئی بھی اور قصہ اس زباں سےکم سنا سمجھا
نہ ملنا، مل کے چھٹ جانا ستم یوں بھی ہے اور یوں بھی
عجب فرقت کا عالم ہے کہ غم یوں بھی ملا سمجھا
وہاں شوق و محبت سے یہاں احساسِ فرقت سے
مرا ہر اشک فانوسِ حرم یوں بھی ہوا سمجھا
تمہاری چاہتوں کے نام سے صبحیں بلاتے ہیں
ادائے بے نیازی سے تمہارا پوچھنا سمجھا
اٹھی ہے ہوک سی دل میں تمہارے لوٹ جانے پر
بہاروں کا ہمارے ہاتھ سے موسم عطا سمجھا
مسلسل رنج سہنے سےبھی آخر ایک دن لوگو
کچھ اپنوں کو پرکھنے کی مہارت ہو ادا سمجھا
وفادوروں کی منڈی میں محبت بک بھی سکتی ہے
دلوں کے بیچ میں وشمہ تجارت ہو سزا سمجھا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






