کوئی تو ہے مجھے جس کی دعا محفوظ رکھتی ہے
Poet: UA By: UA, Lahoreوہ کون ہے مجھے جس کی دعا محفوظ رکھتی ہے
کوئی تو ہے مجھے جس کی دعا محفوظ رکھتی ہے
کوئی بلا مجھے اطراف سے جب گھیر لیتی ہے
میری خوشی میرے نصیب کا رخ پھیر لیتی ہے
مجھے مایوس کرنے کے لئے مجھ پر لپکتی ہے
دہکتی آگ کے مانند میرے دل میں بھڑٹکتی ہے
سیاہ بختی کا تارا گردشوں میں گھومتے ہوئے
اندھیرے میں سحر کا استعارا ڈھونڈتے ہوئے
یہ جب نڈھال ہوتا ہے بہت بے حال ہوتا ہے
نہ جانے کس طرح زوال میں کمال ہوتا ہے
اچانک ہی کہیں سے رحمت کا در کھلنے لگتا ہے
سراغ زندگی کا موت سے ہی ملنے لگتا ہے
ڈوبتے ڈوبتے اندھیرے میں پھر سے ابھرتا ہے
فلک کی گود سے روشن ستارا پھر اترتا ہے
میرے روٹھے مقدر کو وہ تارا پھر بناتا ہے
میرے باطن سے مایوسی کے اندھیرے مٹاتا ہے
میری شکستہ ہستی کو وہیں سنبھال لیتا ہے
میرے اطراف میں پھیلی بلا کو ٹال دیتا ہے
میرا دل سوچنے لگتا ہے ایسا کون ہوتا ہے
دکھائی جو نہیں دیتا مگر محسوس ہوتا ہے
وہ کون ہے مجھے جس کی دعا محفوظ رکھتی ہے
کوئی تو ہے مجھے جس کی دعا محفوظ رکھتی ہے
وہ بہن بھی تو زمانے میں ہے اب نبھاتی ہیں
ماں کی الفت کا کوئی بھی نہیں ہے اب بدل
پر بہن بھی تو محبت میں ہے ایثار نبھاتی ہیں
گھر کے آنگن میں جو پھیلے ہیں یہ الفت کے ضیا
یہ بہن ہی تو ہیں جو گھر میں یہ انوار نبھاتی ہیں
ماں کے جانے کے بعد گھر جو ہے اک اجڑا سا نگر
وہ بہن ہی تو ہیں جو گھر کو ہے گلزار نبھاتی ہیں
دکھ میں بھائی کے جو ہوتی ہیں ہمیشہ ہی شریک
وہ بہن ہی تو ہیں جو الفت میں ہے غمخوار نبھاتی ہیں
ماں کی صورت ہی نظر آتی ہے بہنوں میں ہمیں
جب وہ الفت سے ہمیں پیار سے سرشار نبھاتی ہیں
مظہرؔ ان بہنوں کی عظمت کا قصیدہ کیا لکھیں
یہ تو دنیا میں محبت کا ہی وقار نبھاتی ہیں
زماں میں قدر دے اردو زباں کو تو
زباں سیکھے تو انگریزی بھولے ا پنی
عیاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
تو سیکھ دوسری ضرورت تک ہو ایسے کہ
مہاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
زباں غیر کی ہے کیوں اہمیت بتا مجھ کو
سماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
سنہرے لفظ اس کے خوب بناوٹ بھی
زماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
بھولے کیوں خاکؔ طیبؔ ہم زباں ا پنی
جہاں میں قدر دے اُردو ز باں کو تو






