کوئی خیال بڑی دیر تک نہیں رہتا
Poet: zain shakeel By: zain shakeel, gujratکوئی خیال بڑی دیر تک نہیں رہتا
مجھے ملال بڑی دیر تک نہیں رہتا
ترے جواب مرے ارد گرد رہتے ہیں
کوئی سوال بڑی دیر تک نہیں رہتا
میں تیرے بعد کبھی بھی سنبھل نہیں پایا
مرا کمال بڑی دیر تک نہیں رہتا
وہ آئے گا تو کہاں دور مجھ سے جائے گا
یہ احتمال بڑی دیر تک نہیں رہتا
کوئی برس ہو فقط مار ہے دسمبر کی
کوئی بھی سال بڑی دیر تک نہیں رہتا
وہ ایک حد میں ہی رکھتا ہے سلسلے مجھ سے
سو میں نڈھال بڑی دیر تک نہیں رہتا
وہ پوچھتا ہے تو کہتا ہوں ٹھیک ہوں لیکن
یہ حال چال بڑی دیر تک نہیں رہتا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






