کوئی صداء دو.لي بلقلبي أعرف ما في ممكن حيات.بلقلب.
Poet: سیدہ سعدیہ عنبر جیلانی By: سیدہ سعدیہ عنبر جیلانی, فیصل آبادطلوع ء غم ہے ہونے کو کوئی صداء دو
کوئی امید ہے جانے کو کوئی صداء دو
یہ ویرانی اداسی بے بسی سی کیوں؟
کوئی مسکان لانے کو کوئی صداء دو
ضرورت ہے تمہاری بہت اے میرے ہم دم
میرے پاس آنے کو کوئی صداء دو
محبت ہے جدائیوں پہ پھر اکتفا کیوں ہو
کسی کے لوٹ آنے کو کوئی صداء دو
کوئی تو بنو رھبر مسیحائی کرو کوئی
ظلمت میں شمع جلانے کو کوئی صداء دو
سر ء شام ہے ابھی اندھیرا باقی ہے
ستاروں! چاند نکلنے کو کوئی صداء دو
بہاریں روٹھ رہی ہیں صباء لوٹ جاۓ گی
"گلوں"! خوشبو منانے کو کوئی صداء دو
محبت سے پکارو تجدید ء وفا کرو کوئی
کچھ سانسیں بتانے کو کوئی صداء دو
عذاب ء جان ہے سکوت اتنا بھی جاناں
کوئی عہد نبھانے کو کوئی صداء دو
باد ء سموم ء وقت نے جلا دیا عنبر
اب میرے سنورنے کو کوئی صداء دو
More Love / Romantic Poetry
جتنی چاہت چاہو گے ہم کریں گے تم سے روٹھ جانے کی ہی بات کیوں کرتے ہو
تم ہم سے منانے کی بات کیوں کرتے ہو
ہم یونہی پیار کر لیتے ہیں تمھیں
ہمیں تڑپانے کی بات کیوں کرتے ہو
اس بے رخی میں کتنی محبت ہے چھپی
پیار ہے پھر ترسانے کی بات کیوں کرتے ہو
باتیں ساری تم سے وابستہ اچھی لگتی ہیں
کیوں نہیں انھیں دھرانے کی بات کرتے ہو
جتنی چاہت چاہو گے ہم کریں گے تم سے
پھر بینا سے آزمانے کی بات کیوں کرتے ہو
تم ہم سے منانے کی بات کیوں کرتے ہو
ہم یونہی پیار کر لیتے ہیں تمھیں
ہمیں تڑپانے کی بات کیوں کرتے ہو
اس بے رخی میں کتنی محبت ہے چھپی
پیار ہے پھر ترسانے کی بات کیوں کرتے ہو
باتیں ساری تم سے وابستہ اچھی لگتی ہیں
کیوں نہیں انھیں دھرانے کی بات کرتے ہو
جتنی چاہت چاہو گے ہم کریں گے تم سے
پھر بینا سے آزمانے کی بات کیوں کرتے ہو
Bina
من میں تمھیں بسا کے من میں تمھیں بسا کے
انکھیوں میں تمھیں چھپا کے
پرستان تمھیں لے جا کے
رکھیں گے اپنا بنا کے
سنگ ہونگے نکاح سے
ہم اللہ کو گواہ بنا کے
خوشیاں منا کے
گھر تم سے بسا کے
چاند کی ٹھنڈک میں
مدھم مدھم روشنی میں
ہلکی ہلکی بارش میں
روپہلی دھوپ سنہری میں
ہولے ہولے دل ڈھڑ کتے
دھیرے دھیرے سانس چلتے
چاہت میں ڈوبے ڈوبے
اک دوسرے سے پیار کرتے
آپ کی شہد سی میٹھی باتوں میں کھوئے رہیں گے
بینا آپ کے ہوکے ہم آپ کے ہی ہوئے رہیں گے
انکھیوں میں تمھیں چھپا کے
پرستان تمھیں لے جا کے
رکھیں گے اپنا بنا کے
سنگ ہونگے نکاح سے
ہم اللہ کو گواہ بنا کے
خوشیاں منا کے
گھر تم سے بسا کے
چاند کی ٹھنڈک میں
مدھم مدھم روشنی میں
ہلکی ہلکی بارش میں
روپہلی دھوپ سنہری میں
ہولے ہولے دل ڈھڑ کتے
دھیرے دھیرے سانس چلتے
چاہت میں ڈوبے ڈوبے
اک دوسرے سے پیار کرتے
آپ کی شہد سی میٹھی باتوں میں کھوئے رہیں گے
بینا آپ کے ہوکے ہم آپ کے ہی ہوئے رہیں گے
Bina






