کوئی طبیب ہم سے بلایا نہ جائے گا
Poet: م الف ارشیؔ By: Muhammad Arshad Qureshi (Arshi), Karachiہم سے مرض اب اپنا بتایا نہ جائے گا
کوئی طبیب ہم سے بلایا نہ جائے گا
طوفان کو بتادو چلے دیکھ بھال کر
میرا مکاں اب اس سے گرایا نہ جائے گا
مرنے کے بعد بھی میں تو اک بوجھ ہی رہا
لاشہ مرا یہ تم سے اٹھایا نہ جائے گا
سب کچھ ہی ہم کہیں گے سرِ عام اب یہاں
اب تم سے اپنا چہرہ چھپایا نہ جائے گا
اِس کو لکھا ہے اپنے لہو کی دوات سے
یہ نام میرے دل سے مٹایا نہ جائے گا
ہم نے جلایا ہے جو محبت کا اک دَیا
طوفان سے بھی اب یہ بجھایا نہ جائے گا
چپ ہی رہو اب ارشیؔ یہ محفل انہیں کی ہے
تم سے تو اب یہ قصّہ سنایا نہ جائے گا
ایسا لگا ہے زخم دکھایا نہ جائے گا
اس بے وفا کا چہرہ بھلایا نہ جائے گا
لکھا ہوا ہے ساقی نے اپنی دکان پر
کم ظرف کو یاں جام پلایا نہ جائے گا
بیٹھے ہوئے ہیں غیر کے پہلو میں اس طرح
نظروں کو ان سے اب تو ملایا نہ جائے گا
کچھ ہم ہی جانتے ہیں جو ہم پر گذر گئی
حالِ دن اپنا ہم سے سنایا نہ جائے گا
ہم تو مریضِ عشق ہیں دے دیں گے جان بھی
کوئی طبیب ہم سے بلایا نہ جائے گا
کب تک رہو گے چپ ذرا تم غور تو کرو
ہم سے تو یہ وطن یوں لٹایا نہ جائے گا
ارشیؔ ذرا اٹھو چلو اب ہم ہی کچھ کریں
ان سے وطن کا بوجھ اٹھایا نہ جائے گا
وہ بہن بھی تو زمانے میں ہے اب نبھاتی ہیں
ماں کی الفت کا کوئی بھی نہیں ہے اب بدل
پر بہن بھی تو محبت میں ہے ایثار نبھاتی ہیں
گھر کے آنگن میں جو پھیلے ہیں یہ الفت کے ضیا
یہ بہن ہی تو ہیں جو گھر میں یہ انوار نبھاتی ہیں
ماں کے جانے کے بعد گھر جو ہے اک اجڑا سا نگر
وہ بہن ہی تو ہیں جو گھر کو ہے گلزار نبھاتی ہیں
دکھ میں بھائی کے جو ہوتی ہیں ہمیشہ ہی شریک
وہ بہن ہی تو ہیں جو الفت میں ہے غمخوار نبھاتی ہیں
ماں کی صورت ہی نظر آتی ہے بہنوں میں ہمیں
جب وہ الفت سے ہمیں پیار سے سرشار نبھاتی ہیں
مظہرؔ ان بہنوں کی عظمت کا قصیدہ کیا لکھیں
یہ تو دنیا میں محبت کا ہی وقار نبھاتی ہیں
زماں میں قدر دے اردو زباں کو تو
زباں سیکھے تو انگریزی بھولے ا پنی
عیاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
تو سیکھ دوسری ضرورت تک ہو ایسے کہ
مہاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
زباں غیر کی ہے کیوں اہمیت بتا مجھ کو
سماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
سنہرے لفظ اس کے خوب بناوٹ بھی
زماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
بھولے کیوں خاکؔ طیبؔ ہم زباں ا پنی
جہاں میں قدر دے اُردو ز باں کو تو






