کوئی طبیب ہم سے بلایا نہ جائے گا
Poet: م الف ارشیؔ By: Muhammad Arshad Qureshi (Arshi), Karachiہم سے مرض اب اپنا بتایا نہ جائے گا
کوئی طبیب ہم سے بلایا نہ جائے گا
طوفان کو بتادو چلے دیکھ بھال کر
میرا مکاں اب اس سے گرایا نہ جائے گا
مرنے کے بعد بھی میں تو اک بوجھ ہی رہا
لاشہ مرا یہ تم سے اٹھایا نہ جائے گا
سب کچھ ہی ہم کہیں گے سرِ عام اب یہاں
اب تم سے اپنا چہرہ چھپایا نہ جائے گا
اِس کو لکھا ہے اپنے لہو کی دوات سے
یہ نام میرے دل سے مٹایا نہ جائے گا
ہم نے جلایا ہے جو محبت کا اک دَیا
طوفان سے بھی اب یہ بجھایا نہ جائے گا
چپ ہی رہو اب ارشیؔ یہ محفل انہیں کی ہے
تم سے تو اب یہ قصّہ سنایا نہ جائے گا
ایسا لگا ہے زخم دکھایا نہ جائے گا
اس بے وفا کا چہرہ بھلایا نہ جائے گا
لکھا ہوا ہے ساقی نے اپنی دکان پر
کم ظرف کو یاں جام پلایا نہ جائے گا
بیٹھے ہوئے ہیں غیر کے پہلو میں اس طرح
نظروں کو ان سے اب تو ملایا نہ جائے گا
کچھ ہم ہی جانتے ہیں جو ہم پر گذر گئی
حالِ دن اپنا ہم سے سنایا نہ جائے گا
ہم تو مریضِ عشق ہیں دے دیں گے جان بھی
کوئی طبیب ہم سے بلایا نہ جائے گا
کب تک رہو گے چپ ذرا تم غور تو کرو
ہم سے تو یہ وطن یوں لٹایا نہ جائے گا
ارشیؔ ذرا اٹھو چلو اب ہم ہی کچھ کریں
ان سے وطن کا بوجھ اٹھایا نہ جائے گا
ارے چین ایسا کہ ناراض کرے رب کو کیسی راحت
نگا ہ زن تیری راحت، بدن تیری محبت ہے
عجب پالے محبت تو عشق بس نام کی سنگت
عجب عورت تیری بول چاری دیکھی میں نے جگ بھر میں
وصال مرد اچھا نہ ، کر ے کیوں گفتگو الفت
وصال مرد زن گر ہے محبت تو سنو یہ پھر
ملے نہ گر بدن تو رکھے کیوں الفت کی جا نفرت
ہے قال تم فراق تم سے جائے جاں میری ہائے
پریشاں گر ہو محبوب دور نہ کرتے اس کی تم زحمت
محبت خاکؔ طیبؔ یہ پیش خدمت جاں ہو چاہ کے
پیش محبو ب سب کچھ تم کرو گر نہ، نہیں الفت
اُن کی راہوں میں دُعاؤں کی نِشانی رَکھ دِی ۔
جِن کے بَچوں کو دِیا نام، سَہارا، مَنزِل،
اَپنی قِسمَت کی بھی ہَم نے تو گِرانی رَکھ دِی ۔
ہَم دِیّارِ غَیر میں تَنہا ہی لَڑتے رَہ گئے،
اور اُنہوں نے فَقط مَطلَب کی کَہانی رَکھ دِی ۔
گھر بَنایا تھا جِسے سَایۂ اِخلاص سَمجھ،
وَقت آیا تو اُسی گھر نے وِیرانی رَکھ دِی ۔
دَرد اِتنا ہے کہ اَب شِکوَہ بھی مُشکِل لَگتا،
زِندگی نے لَبِ اِظہار پہ پانی رَکھ دِی ۔
مَظہرؔ اِحسان کا بَدلہ نہ سَہی، یاد ہی رَکھ،
کُچھ تو رِشتوں نے وَفادارِی کی نِشانی رَکھ دِی ۔
جِنہیں اَپنا سَمجھا، وُہی یہ کَہہ کے ہَنس دِیے،
حاجی صَاب لُوسدِیاں رَہنا اِیں
بَس اِتنی مِہربانی رَکھ دِی
جو قوم کی خاطر بولا تھا، زِندان میں بیٹھا ہے۔
جس شَخص نے خواب دِکھائے تھے اِک بہتر پاکستان کے،
وہ شَخصِ وَفا آج بھی بے سامان میں بیٹھا ہے۔
جس نے ہر ظُلم کے آگے حَق بات سُنائی لوگوں کو،
وہ اَپنی ہی قوم کے بیچ حَیران میں بیٹھا ہے۔
اِک آنکھ بھی اُس کی جاتی رَہی اِس راہِ سیاسَت میں،
اور شہرِ تمَاشہ خاموشی کی تان میں بیٹھا ہے۔
لوگوں نے فَقط نعروں تک مَحدُود رَکھی چاہت کو،
اِک مَردِ مُجاہد اَب تک زِندان میں بیٹھا ہے۔
گر ایک دَفعہ بھی قوم اُٹھے، دِیواریں ہِل سَکتی ہیں،
وَرنہ ہر خواب یَہاں خوف کے طُوفان میں بیٹھا ہے۔
کتنی ہی عِیدیں گُزر گئیں اُس شَخص پہ تَنہائی میں،
اور ہر بے حِس چہرہ اَپنے ہی اَرمان میں بیٹھا ہے۔
مظہرؔ یہ قِیادت بکنے والی شے تو نہیں ہوتی،
اِک سَچّا لِیڈر آج بھی زِندان میں بیٹھا ہے۔
کہ یاروں کو بھُلایا ہو نِشاں بھی نہیں مِلتا
میں اَپنوں کے لیے ہر درد چُپ رَہ کر ہی سَہتا ہوں
لَبوں پَر آہ کا کوئی اِمکاں بھی نہیں مِلتا
مُحَبَّت کے بہت دَعوے کِیے چہروں نے مِل کر اَب
مگر سچ ہے کہ ان جیسا انساں بھی نہیں ملتا
سَہارا جو بُرے وَقتوں میں لوگوں کا بَنے یارو
زَمانے میں کِسی کو وہ خانداں بھی نہیں ملِتا
میں اَپنے دوست کی خاطِر زَمانے بھَر سے لَڑ جاؤں
مَطلَب پَرَستوں میں یہ اِیماں بھی نہیں ملِتا
جو دِل میں ہے وُہی لَب پَر، نہیں ہے پَردہ کوئی بھی
مِرے کِردار میں جھُوٹوں کا دھِیاں بھی نہیں مِلتا
مظہرؔ یاروں کی چاہَت میں ہمیشہ سَر جھُکاتا ہے
وفاداری کے رَستے میں نُقصاں بھی نہیں مِلتا






